شہر میں نئی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے بعد غیر قانونی سپیڈ بریکر موجود ٹریفک کی روانی متاثر
آفیسرز کالونی کے درمیان یونیورسٹی آف ایجوکیشن، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈی ایچ او آفس اور دیگر آبادیوں کو ملانے والی اہم سڑک پر انتہائی بلند سپیڈ بریکر سےشہریوں کے مسائلِ میں اضافہ

وہاڑی (سٹاف رپورٹر) شہر میں نئی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کے بعد ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جگہ جگہ بنائے گئے مبینہ غیر قانونی، غیر معیاری اور خطرناک سپیڈ بریکرز شہریوں کے لیے عذاب بن گئے۔ اچانک اور انتہائی بلند سپیڈ بریکرز کے باعث موٹر سائیکل سوار رکشہ ڈرائیور اور گاڑی مالکان شدید مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ شہریوں کی قیمتی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ شہریوں نے محکمہ ہائی وے ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہےشہریوں سابق ناظم چوہدری عاطف ریاض میاں رضوان ایڈووکیٹ میاں غلام حسین ایڈووکیٹ، چیئرمین مرکزی انجمن تاجران ساجد مسعود مغل محمد فیاض، محمد ارشاد، محمد سلیم اور دیگر نے بتایا کہ آفیسرز کالونی کے درمیان یونیورسٹی آف ایجوکیشن، گورنمنٹ ڈگری کالج ڈی ایچ او آفس، سکولز صنعت زار، مجید ٹاؤن اور دیگر آبادیوں کو ملانے والی اہم سڑک پر انتہائی بلند سپیڈ بریکر بنا دیا گیا ہے، جس کی مناسب نشاندہی نہ ہونے کے باعث بالخصوص رات کے وقت حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کے مطابق دانیوال پھاٹک سے سی سی ڈی آفس تک ایک ہی سڑک پر سات سپیڈ بریکرز بنا دیے گئے ہیں جبکہ پیپلز کالونی ریلوے روڈ پر بھی نئے سپیڈ بریکرز شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ رفتار کم کرنے کے لیے سپیڈ بریکر ضروری ہوں تو انہیں مقررہ تکنیکی معیار، مناسب اونچائی، واضح نشانات اور وارننگ سائنز کے ساتھ بنایا جائے، نہ کہ اس انداز میں کہ خود سپیڈ بریکر ہی حادثات کا سبب بن جائیں۔ انہوں نے کمشنر ملتان سے مطالبہ کیا کہ محکمہ ہائی وے، میونسپل کمیٹی، ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں پر مشتمل ٹیم کے ذریعے شہر بھر کے سپیڈ بریکرز کا فوری سروے کرایا جائے، غیر ضروری اور خطرناک سپیڈ بریکرز ختم جبکہ ضروری بریکرز کو مقررہ معیار کے مطابق درست کیا جائے شہریوں نے خبردار کیا کہ خطرناک سپیڈ بریکرز کے باعث کسی بڑے حادثے کی صورت میں ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی
Found this useful?
Send it to someone who should read it.