مؤثر طرزِ حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں تعمیر ملت موومنٹ کی پریس کانفرنس
یونین کونسلز اور وارڈز کی سطح پر بااختیار بلدیاتی اداروں نئے صوبوں کاقیام اور منتخب نمائندوں کو باختیار بنانا اہم تقاضا ہے حافظ خیر محمد جوئیہ اور چیف آرگنائزر یوتھ پاکستان راؤ زاہد تنویر

وہاڑی(سٹاف رپورٹر)تعمیرِ ملت موومنٹ پاکستان کے بانی حافظ خیر محمد جوئیہ اور چیف آرگنائزر یوتھ پاکستان راؤ زاہد تنویر نے کہا ہے کہ ملک میں مؤثر طرزِ حکمرانی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے نظامِ حکومت اور انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ وہاڑی کے ایک نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تحریک کے منشور میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام متعارف کرانے، سرکاری ملازمین کے نظام میں بہتری، عدالتی و انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے اور انتخابی اصلاحات سمیت متعدد تجاویز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسلوں اور وارڈز کی سطح پر بااختیار بلدیاتی اداروں کا قیام، بڑے شہروں کے انتظامی امور مقامی حکومتوں کے سپرد کرنے اور منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اختیارات دینے پر بھی زور دیا گیا ہے، جبکہ انتخابی حلقوں کی تشکیل نو اور کمشنری نظام کے خاتمے کی تجاویز بھی منشور کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی رہنمائی، مستحق افراد کی معاونت، قدرتی آفات سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی تحریک کی ترجیحات میں شامل ہے۔ منشور میں تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے، پانی اور بجلی کی سہولیات بہتر بنانے کے علاوہ بزرگ شہریوں کو رہائش، خوراک، طبی سہولیات اور قانونی مشاورت فراہم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ حافظ خیر محمد جوئیہ اور راؤ زاہد تنویر نے کہا کہ تعمیرِ ملت موومنٹ پاکستان کا منشور عوامی فلاح و بہبود، انتظامی بہتری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے تصور پر مبنی ہے، تاہم ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہوگا۔
Found this useful?
Send it to someone who should read it.