BBriefShell
The 10-Minute AI Privacy Check: What Your Chatbots Remember About YouHow to Set Up Your First ChatGPT Dot Without Giving It Too Much AccessHow to Create a Simple Return Deadline System for Online OrdersHow to Create a Simple “Waiting On” List So Follow-Ups Stop SlippingHow to Set Up Passkeys Without Locking Yourself OutThe Receipt Photo Rule: A Simple Way to Stop Losing Proof of PurchaseThe 10-Minute AI Privacy Check: What Your Chatbots Remember About YouHow to Set Up Your First ChatGPT Dot Without Giving It Too Much AccessHow to Create a Simple Return Deadline System for Online OrdersHow to Create a Simple “Waiting On” List So Follow-Ups Stop SlippingHow to Set Up Passkeys Without Locking Yourself OutThe Receipt Photo Rule: A Simple Way to Stop Losing Proof of Purchase
Vehari

درخواست اور مقدمہ نمبر 557/26 میں تضادات میڈیکل کروانے کے لیے درخواست دے دی گئی

ایف آئی آر میں تیسرے شخص اشتیاق احمد کا نام ایک سوچی سمجھی جھوٹی سازش کی بنا پر شامل کیا گیاموضع کنبر کے رہائشیوں ملزم اشتیاق احمد کےورثاءمحمداقبال،محمد جبار،محمدمشتاق سدھو جٹ

وہاڑی(تحصیل رپورٹر) موضع کنبر کے رہائشیوں ملزم اشتیاق احمد کےورثاءمحمداقبال۔محمدجبار۔محمدمشتاق سدھو جٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ مترو میں دی گئی ابتدائی درخواست اور مقدمہ نمبر 557/26 میں مبینہ تضادات موجود ہیں ابتدائی درخواست جو میڈیکل کروانے کے لیئے دی گئ اور جبکہ بعد ازاں درج ہونے والی ایف آئی آر میں ایک تیسرے شخص اشتیاق احمد کا نام بھی ایک سوچی سمجھی جھوٹی سازش کی بنا پر شامل کیا گیا ہےانہوں نے معاملے کو مبینہ سازش قرار دیتے ہوئے اعلیٰ حکام سے غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہےان کے مطابق مدعی غلام بشیر نے 2 اکتوبر 2026 کو تھانہ میں تحریری درخواست دی تاہم ان کے بقول ابتدائی درخواست میں دو گواہوں کے نام درج تھے، جبکہ 9 اکتوبر 2026 کو درج ہونے والی پکی ایف آئی آر نمبر 557/26 میں گواہوں کے نام تبدیل کرکے نئے گواہ شامل کیے گئے ہیں۔ہماری معلومات کے مطابق پہلے والے گواہان علاقے کے ایک معزز کے پاس پنچایت میں جھوٹی گواہی دینے سے انکاری ھو گئے تاہم نئے جھوٹے گواہ لائےانہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ابتدائی درخواست میں محمد آفتاب اور محمد عدنان کے نام درج تھے، لیکن بعد ازاں ایف آئی آر میں ایک تیسرے شخص اشتیاق احمد کو بھی بلاجواز اور جھوٹی سازش کے تحت شامل کروایا گیا اور نامزد کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کے حوالے سے شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور کسی بے گناہ کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑےانہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ان کے مطابق ابتدائی درخواست میں بچی کی عمر 13 سال جبکہ ایف آئی آر میں 14 سال درج کی گئی ہے، جس پر انہوں نے سوالات اٹھائے ہیں متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقدمے کے تمام ریکارڈ، ابتدائی درخواست اور ایف آئی آر کا تقابلی جائزہ لے کر کسی غیر جانبدار افسر سے انکوائری کروائی جائے اور اگر کسی شخص کو بلاجواز نامزد کیا گیا ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے#

Found this useful?

Send it to someone who should read it.