BBriefShell
How to Create a Simple “Waiting On” List So Follow-Ups Stop SlippingHow to Set Up Passkeys Without Locking Yourself OutThe Receipt Photo Rule: A Simple Way to Stop Losing Proof of PurchaseThe 15-Minute Bag Reset: A Simple Way to Stop Carrying Daily ClutterThe Two-Account Buffer: A Simple Way to Separate Bills From Everyday SpendingThe One-Page Home Manual: A Simple Household System for Details You Always ForgetHow to Create a Simple “Waiting On” List So Follow-Ups Stop SlippingHow to Set Up Passkeys Without Locking Yourself OutThe Receipt Photo Rule: A Simple Way to Stop Losing Proof of PurchaseThe 15-Minute Bag Reset: A Simple Way to Stop Carrying Daily ClutterThe Two-Account Buffer: A Simple Way to Separate Bills From Everyday SpendingThe One-Page Home Manual: A Simple Household System for Details You Always Forget
Vehari

وہاڑی: خاتون پر مبینہ تشدد، پولیس پر کارروائی نہ کرنے کا الزام

198 ای بی کی سدرہ بشیر نے گھر میں گھس کر مبینہ تشدد اور دھمکیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس ترجمان نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنا مؤقف بھی پیش کیا۔

وہاڑی:-198 ای بی (32 دگلاں والی کی رہائشی پانچ بچوں کی ماں سدرہ بشیر زوجہ عامر علی آرائیں نے الزام عائد کیا ہے کہ 26 اور 28 اگست کو گاؤں کے ممتاز کھرل نے اپنے بیٹوں فیصل کھرل، زوہیب کھرل، ابوبکر کھرل، بھائی معاذ کھرل اور چار نامعلوم افراد کے ہمراہ مبینہ طور پر اس کے گھر میں زبردستی داخل ہو کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان نے اس کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، ڈنڈوں اور سوٹوں سے مارا پیٹا، جس سے اس کے کپڑے پھٹ گئے، جبکہ نیم برہنہ حالت میں بھی مبینہ طور پر تشدد جاری رکھاگیا سدرہ بشیر نے میڈیا کو بتایا کہ واقعہ کے حوالے سے اس نے تھانہ صدر وہاڑی میں دو درخواستیں دیں، تاہم مبینہ طور پر تاحال مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ خاتون کے مطابق وہ بعد ازاں ڈی پی او وہاڑی کے سامنے بھی پیش ہوئی، جہاں اس نے انصاف کی درخواست کی اور ڈی پی او کی جانب سے ایس ایچ او کو مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی، تاہم اس کا الزام ہے کہ اس کے باوجود پولیس نے کارروائی نہیں کی متاثرہ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان بااثر ہیں اور انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اس کے مطابق اسے کہا گیا کہ پولیس سے ان کے تعلقات ہیں اور اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی خاتون نے دعویٰ کیا کہ اسے پولیس سے رجوع کرنے پر بھی مبینہ طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں سدرہ بشیر کا کہنا تھا کہ اس کا شوہر بیرون ملک محنت مزدوری کرتا ہے، جبکہ ملزمان کے خوف اور مسلسل دھمکیوں کے باعث اس نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنا بند کر دیا ہے اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسے یا اس کے بچوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچ سکتا ہے متاثرہ خاتون نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او وہاڑی سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اسے و اس کے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے دوسری جانب پولیس ترجمان کے مطابق پولیس نے دونوں فریقین کو سنا ملزمان کا گھر جانا ثابت نہیں ہوا جس پر ملزمان کو زیردفعہ 7/51 کاروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ اب وہ ضمانت پر ہیں

Found this useful?

Send it to someone who should read it.